نئی دہلی،یکم جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جموں اور کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اسٹریٹجک سیکورٹی پر سوال اٹھائے۔ایسا انہوں نے وزیر دفاع منوہر پاریکر کی طرف سے کئے گئے تبصرے کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے بہت غور سے ان کی بات سنی پر جواب دینے کے لئے صحیح وقت کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔عمر نے کہا کہ ہو سکتا تھاکہ اینکرز کے سوال نے پاکستان کے ساتھ وسیع جدوجہد کو اکسایا،ہم اس طرح کے فیصلے سے محفوظ محسوس کرنا چاہتے ہیں۔
بتا دیں کہ سابق وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا ہے کہ 2015میں میانمار کی سرحد پر چلائی گئی انتہا پسندی مخالف مہم کے بعد ایک ٹی وی اینکر نے وزیر وردھن سنگھ راٹھور سے ایک اشتعال انگیز سوال پوچھا،اس کی وجہ سے وہ پاکستان کے مقبوضہ کشمیر (پی او)میں گزشتہ سال کئے گئے سرجیکل اسٹرائیک کی منصوبہ بندی کیلئے حوصلہ افزاء ہوئے۔
گوا کے وزیر اعلی نے صنعت کاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی او میں دہشت گردوں پر کئے گئے سرجیکل اسٹرائیک کی منصوبہ بندی 15ماہ پہلے بنی تھی۔چار جون، 2015کو شمال مشرق کے دہشت گرد گروپ این ایس سی این ۔کے نے منی پور کے چندیل ضلع میں ہندوستانی فوج کے ایک قافلے پر حملہ کرکے 18جوانوں کی جان لے لی تھی۔اس کے بعد آٹھ جون کوہندوستان نے ہند-میانمار کی سرحد پرسرجیکل اسٹرائیک کرکے قریب 70-80عسکریت پسندوں کو مار گرایا۔پاریکر نے کہا کہ انہیں (میڈیا)ایک سوال کا بہت برا لگا تھا جب (مرکزی وزیر اور سابق فوجی)وردھن سنگھ راٹھور سے ایک ٹی وی اینکر نے پوچھا تھا کہ کیا آپ میں ملک کے مغربی محاذ پر بھی ایسا کرنے کی ہمت اور صلاحیت ہے ؟سابق وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے اس وقت توجہ سے سوال سنا لیکن اس کا جواب صحیح وقت پر دینے کا فیصلہ کیا۔